حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 363
363 اللہ تعالیٰ غیر اللہ کی نہیں بلکہ اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے اب ظاہر ہے کہ خدا تعالے کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اس کی شان کے لائق اور اس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور غرض اس سے یہ ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالے کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالے میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض کھلے کھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں۔اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی۔کیونکہ وہ درحقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کہ کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔( آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 97-96 حاشیہ) قسم جسمانی نظام کو روحانی نظام کی تصدیق کرنے کی غرض سے ہے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَمَاهُوَ بِالْهَزْلِ إِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا وَّاكِيْدُ كَيْدًا۔(الطارق 17 تا12) قسم ہے آسمان کی جس سے مینہ نازل ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھوٹ کر اناج نکالتی ہے۔یہ کلام یعنی قرآن شریف حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے اور بے فائدہ نہیں۔یعنی اس کلام کی ایسی ہی ضرورت ثابت ہے جیسا کہ جسمانی نظام میں مینہ کی ضرورت ثابت ہے۔اگر مینہ نہ ہو تو آخر کار کنوئیں بھی خشک ہو جاتے ہیں اور دریا بھی۔اور پھر نہ پینے کے لئے پانی رہتا ہے اور نہ کھانے کے لئے اناج کیونکہ ہر ایک برکت زمین کی آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔اس دلیل سے خدا نے ثابت کیا ہے کہ جیسا کہ پانی اور اناج کی ہمیشہ ضرورت ہے ایسا ہی خدا کی کلام اور اس کے تسلی دینے والے معجزات کی ہمیشہ ضرورت ہے کیونکہ محض گذشتہ قصوں سے تسلی نہیں ہو سکتی۔چشمہ معرفت - ر-خ- جلد 23 صفحہ 102)