حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 361 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 361

361 نویس فصل اللہ تعالیٰ کا قسم کھانا اسلام میں قسم کھانا جائز ہے وَيَسْتَبْتُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِيْ وَ رَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔(يونس (54) یہ امر بالکل غلط ہے کہ اسلام میں قسم کھانا منع ہے۔تمام نیک انسان مسلمانوں میں سے ضرورتوں کے وقت قسم کھاتے آئے ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی ضرورتوں کے وقت قسم کھائی۔ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بار ہا قسمیں کھائیں۔خود خدا تعالیٰ نے قرآن میں قسمیں کھائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں مجرموں کو قسمیں دلائی گئیں۔قسموں کا قرآن شریف میں صریح ذکر ہے۔شریعت اسلام میں جب کسی اور ثبوت کا دروازہ بند ہو یا پیچیدہ ہو تو قسم پر مدار رکھا جاتا ہے اور صحیح البخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے جو تمہارا امام ہوگا وہ تم میں سے ہی ہو گا یعنی اسی امت میں سے ہو گا آسمان سے نہیں آئے گا۔پھر صحیح بخاری جلد نمبر 4 صفحہ 106 میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ایک باب باندھا ہے۔اس باب میں بہت سی قسمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہیں جو دس سے کم نہیں۔ایسا ہی صحیح نسائی جلد ثانی صفحہ 138 کتاب الایمان والنذور میں صفحہ 139 تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ذکر ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَسْتَنْبِنُوْنَکَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِلَى وَ رَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ (یونس : 54) یعنی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حق ہے۔کہہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ یہ حق ہے۔ایسا ہی قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔وَاحْفَظُوْ آأَيْمَانَكُمْ (المائدة: 90) یعنی جب تم قسم کھاؤ تو جھوٹ اور بدعہدی اور بدنیتی سے اپنی قسم کو بچاؤ۔ایسا ہی قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے اَرْبَعُ شَهدَاتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الكذِبِينَ (النور: 8-7) یعنی شخص ملزم چار قسمیں خدا کی کھائے کہ وہ سچا اور پانچویں قسم میں یہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہوا گر وہ جھوٹا ہے۔مجوعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 512-511 حاشیہ ) قسم کی فلاسفی اللہ تعالیٰ کی قسمیں اپنے اندر لامحدود اسرار معرفت کے رکھتی ہیں۔جن کو اہل بصیرت ہی دیکھ سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانون قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لیے پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب (قدرت) اس کی قولی کتاب ( قرآن شریف ) پر شاہد ہو جاوے اور اس کے قول اور فعل میں باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لیے مزید معرفت اور سکنیت اور یقین کا موجب ہوا اور یہ طریق قرآن شریف میں عام ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ برہموؤں اور الہام کے منکروں پر یوں اتمام حجت کرتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 145)