حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 360 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 360

360 قرآن کریم آپ فرماتا ہے مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنْسِهَانَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْمِثْلِهَا یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے۔پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرما دیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہی ہوتا ہے اسی وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ سخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے ہاں علماء نے مساحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھیرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کے رو سے مشہور حدیث سے آیت منسوخ ہو سکتی ہے۔مگر امام شافعی اس بات کا قائل ہے کہ متواتر حدیث سے بھی قرآن کا نسخ جائز نہیں اور بعض محدثین خبر واحد سے بھی نسخ آیت کے قائل ہیں لیکن قائلین نسخ کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر حدیث سے آیت منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ واقعی امر تو یہی ہے کہ قرآن پر نہ زیادت جائز ہے اور نہ نسخ کسی حدیث سے لیکن ہماری نظر قاصر میں جو استخراج مسائل قرآن سے عاجز ہے یہ سب باتیں صورت پذیر معلوم ہوتی ہیں۔اور حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے۔حضرت اقدس کا عقید ہو اور تنسیخ آیات قرآنیہ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 93-92) میں نے بار بار بیان کیا اور اپنی کتابوں کا مطلب سنایا کہ کوئی کلمہ کفران میں نہیں ہے نہ مجھے دعوئی نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلتہ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلعم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شعشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلمی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں۔نشان آسمانی - ر - خ - جلد 4 صفحہ 391-390)