حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 359 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 359

359 نسخ آیات قرآنیہ ناسخ منسوخ مَا كَانَ اللَّهُ أَنْ يُرْسِلَ نَبِيًّا بَعْدَ نَبِيِّنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَ مَا كَانَ أَنْ يُحْدِتَ سِلْسِلَةَ النُّبُوَّةِ ثَانِيَا بَعْدَ اِنْقِطَاعِهَا وَيَنْسَخُ بَعْضَ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَ يَزِيْدَ عَلَيْهَا وَيُخْلِفَ وَعْدَهُ وَيَنْسَى اِكْمَالَهُ الْفُرْقَانَ وَ يُحْدِتَ الْفِتَنَ فِي الدِّيْنِ الْمَتِيْنِ۔اَلَا تَقْرَءُ وْنَ فِى أَحَادِيثِ الْمُصْطَفَى سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَصَلَّى أَنَّ الْمَسِيْحَ يَكُوْنُ اَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ وَيَتَّبِعُ جَمِيْعَ أَحْكَامِ مِلَّتِهِ وَيُصَلِّي مَعَ الْمُصَلَّيْنَ۔( ترجمه از مرتب): اللہ تعالیٰ ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجے گا اور نہ سلسلہ نبوت کے منقطع ہونے کے بعد اسے دوبارہ جاری کرے گا اور نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا ان میں اضافہ کرے اور اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرے اور بھول جائے کہ وہ قرآن مجید کو کامل کر چکا ہے اور دین متین میں فتنے پیدا ہونے کی راہ کھول دے۔کیا تم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں پڑھتے کہ آنے والا مسیح آپ کی ہی امت کا ایک فرد ہوگا اور آپ کے دین کے تمام احکام کی اتباع کرے گا اور مسلمانوں کے طریق پر نماز ادا کرے گا۔آئینہ کمالات اسلام - ر - خ - جلد 5 صفحہ 377) مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنْسِهَانَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَاطَ أَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(البقره: 107) صبح کو ایک الہام ہوا تھا میرا ارادہ ہوا کہ لکھ لوں۔پھر حافظہ پر بھروسا کر کے نہ لکھا۔آخر وہ ایسا بھولا کہ ہر چند یادو کیا مطلق یاد نہ آیا در اصل یہی بات ہے۔مَا تَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَانَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْمِثْلِهَا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 60) میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَانَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ اَوْ تُنْسِهَانَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا اَوْمِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(البقرة:107) (حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 340)