حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 358 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 358

358 الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔(البقره: 2 تا 4) آیات مندرجہ بالا میں پہلے اس آیت پر یعنی السم۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ۔پرغور کرنا چاہیئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاد سے خدائے تعالیٰ نے وسوسہ مذکور کا جواب دیا ہے اول قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا: اور کہا السم میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 200 حاشیہ نمبر 11) جب تک کسی کتاب کے علل اربعہ کامل نہ ہوں وہ کتاب کامل نہیں کہلا سکتی اس لیے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے علل اربعہ کا ذکر فرما دیا ہے اور وہ چار ہیں (۱) علت فاعلی (۲) علت مادی (۳) علت صوری (۴) علت غائی۔اور ہر چہار کامل درجہ پر ہیں پس اسم علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں انا اللہ اعلم یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اتارا ہے پس چونکہ خدا اس کتاب کی علت فاعلی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فائل سے زبر دست اور کامل ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 136 حاشیہ ) الركِيبٌ أُحْكِمَتْ ايتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ۔(هود:2) الف سے مراد اللہ اور آل سے مراد جبرائیل اور ڈ سے مراد رسل ہیں چونکہ اس میں یہی قصہ ہے کہ کونسی چیزیں انسانوں کو ضروری ہیں اس لئے فرمایا: كتب أحْكِمَتْ الآيه۔یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات پکی اور استوار ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 343-342 ان وجوہات احکام آیات کے علاوہ میرے نزدیک اور بھی بہت سے وجوہات ہیں منجملہ ان کے ایک السر کے لفظ را سے پتہ لگتا ہے یہ لفظ مجددوں اور مرسلوں کے سلسلہ جاریہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 345)