حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 351 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 351

351 اب قرآن کریم موجود ہے۔اس کی شرح حدیث شریف میں صاف الفاظ میں موجود ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک خیالی اور فرضی کہانی کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ ہم پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا چاہتے ہو۔ہم قرآن اور حدیث پیش کرتے ہیں۔پھر عقل سلیم اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے۔ہماری طرف سے خود ساختہ بات ہوتی تو تم قصہ پیش کر دیتے ، مگر یہاں تو ہدایت اور اس کی تائید میں حدیث پیش کی جاتی ہے۔اس کے بعد اور کیا چاہیئے۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ۔(يونس : 33) قصوں کے حقائق بتا نے خدا تعالیٰ کو ضرور نہیں، ان پر ایمان لاؤ اور ان کی تفاسیر حوالہ بخدا کرو۔( ملفوظات جلد اول صفحه 359) ہمارے مخالفوں میں اگر دیانت اور خدا ترسی ہو تو عزیر کا قصہ بیان کرتے وقت ضرور ہے کہ وہ ان آیات کو بھی ساتھ رکھیں جس میں لکھا ہے کہ مردے واپس نہیں آتے۔پھر ہم بطریق تنزل ایک اور جواب دیتے ہیں۔اس بات کو ہم نے بیان کر دیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ قصوں کے لئے اجمالی ایمان کافی ہے ہدایات میں چونکہ عملی رنگ لانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اس کا سمجھنا ضروری ہے ماسوا اس کے یہ جو لکھا ہے کہ سو برس تک مردہ رہے۔ام ان کے معنے انسام بھی آئے ہیں اور قوت نامید اور حسیہ کے زوال پر بھی موت کا لفظ قرآن کریم میں بولا گیا ہے بہر حال ہم سونے کے معنے بھی اصحاب کہف کے قصہ کی طرح کر سکتے ہیں اصحاب کہف اور عزیر کے قصہ میں فرق اتنا ہے کہ اصحاب کہف کے قصہ میں ایک کتا ہے اور یہاں گدھا ہے اور نفس کتے اور گدھے دونوں سے مشابہت رکھتا ہے۔خدا نے یہودیوں کو گدھا بنایا ہے اور کتے کو بلعم کے قصہ میں بیان فرمایا ہے معلوم ہوتا ہے کہ نفس پیچھا نہیں چھوڑ تا جو بیہوش ہوتا ہے۔اس کے ساتھ کہتا ہو گا یا گدھا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 360)