حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 352 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 352

352 قصص قرآن علمی حقیقت رکھتے ہیں سلسلہ احمدیہ نے قرآنی قصوں کو بھی ایک فلسفہ کی صورت میں پیش کیا یہ بات ہرگز ہرگز بھول جانے کے قابل نہیں ہے کہ قرآن شریف جو خاتم الکتب ہے دراصل قصوں کا مجموعہ نہیں ہے۔جن لوگوں نے اپنی غلط فہمی اور حق پوشی کی بناء پر قرآن شریف کو قصوں کا مجموعہ کہا ہے انہوں نے حقائق شناس فطرت سے حصہ نہیں پایا۔ورنہ اس پاک کتاب نے تو پہلے قصوں کو بھی ایک فلسفہ بنا دیا ہے اور یہ اس کا احسان عظیم ہے ساری کتابوں اور نبیوں پر۔ورنہ آج ان باتوں پر جنسی کی جاتی۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس علمی زمانہ میں جبکہ موجودات عالم کے حقائق اور خواص الاشیاء کے علوم ترقی کر رہے ہیں۔اس نے آسمانی علوم اور کشف حقائق کے لئے ایک سلسلہ کو قائم کیا۔جس نے ان تمام باتوں کو جو بیج اعوج کے زمانہ میں ایک معمولی قصوں سے بڑھ کر وقعت نہ رکھتی تھیں اور اس سائنس کے زمانہ میں ان پرانسی ہو رہی تھی۔علمی پیرایہ میں ایک فلسفہ کی صورت میں پیش کیا۔قرآن کریم کے احسانات ( ملفوظات جلد دوم صفحه 112 ) پس یا درکھنا چاہیئے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے۔جو ان کی تعلیموں کو جو قصہ کے رنگ میں تھیں۔علمی رنگ دیدیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جب تک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے کیونکہ قرآن شریف ہی کی یہ شان ہے کہ وہ انہ لقول فصل و ما هو بالهزل۔(الطارق: 14-15) وہ میزان مہیمن ، نور اور شفاء اور رحمت ہے۔جو لوگ قرآن شریف کو پڑھتے اور اسے قصہ سمجھتے ہیں انہوں نے قرآن شریف نہیں پڑھا بلکہ اس کی بے حرمتی کی ہے۔ہمارے مخالف کیوں ہماری مخالفت میں اس قدر تیز ہوئے ہیں؟ صرف اسی لئے کہ ہم قرآن شریف کو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سراسر نور حکمت اور معرفت ہے دکھانا چاہتے ہیں۔اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو ایک معمولی قصے سے بڑھ کر وقعت نہ دیں۔ہم اس کو گوارا نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم پر کھول دیا ہے کہ قرآن شریف ایک زندہ اور روشن کتاب ہے۔اس لئے ہم ان کی مخالفت کی کیوں پر وا کریں۔غرض میں بار بار اس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشف حقائق کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ بدوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہو سکتا۔اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو۔جیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لئے مامور کیا ہے۔اس لئے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھ مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 113 )