حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 350 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 350

350 ساتویں فصل ایک اہم نکتہ قصص قرآن حکیم قصص اور ہدایت میں فرق ہے قرآن کریم کے دو حصے ہیں۔کوئی بات قصہ کے رنگ میں ہوتی ہے۔اور بعض احکام ہدایت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔بہ حیثیت ہدایت جو پیش کرتا ہے اس کا منشاء ہے کہ مان لو جیسے اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ۔(البقره: 185) اب صوم شتر مرغ کی بیٹ کو کہتے ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔احکام میں صفائی ہوتی ہے جبکہ اس ہدایت کے سلسلہ میں یہ فرمایا کہ ملک الموت آتا ہے اور پھر رفع ہوتا ہے اور حدیث میں اس کی تائید آئی ہے۔ایک جگہ فرمایا ہے : فَيُمْسِكَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر: 43 ) یعنی جس نفس پر موت کا حکم دے دیتا ہے۔اس کو واپس آنے نہیں دیتا۔دیکھو۔یہ خدا کا کلام ہے۔قصہ کے رنگ میں نہیں بلکہ ہدایت کے رنگ میں ہے۔جو لوگ نقص اور ہدایت میں تمیز نہیں کرتے ، ان کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قرآن کریم میں اختلاف ثابت کرنے کے موجب ہوتے ہیں اور گویا اپنی عملی صورت میں قرآن کریم کو ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف کی نسبت تو خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 83) اور عدم اختلاف اس کے منجانب اللہ ہونیکی دلیل ٹھہرائی گئی ہے لیکن یہ نا عاقبت اندلیش قصص اور ہدایات میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف پیدا کر کے اس کو مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ ٹھہراتے ہیں۔افسوس ان کی دانش پر !!! ان لوگوں سے پوچھنا چاہیئے کہ مقدم ہدایات ہیں یا قصص؟ اور اگر دونوں میں تناقض پیدا ہو تو مقدم کس کو رکھو گے؟ اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جو مر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے اور ترمذی میں حدیث موجود ہے کہ ایک صحابی شہید ہوئے۔انہوں نے عرض کی کہ یا الہی مجھے دنیا میں پھر بھیجو تو خدا تعالیٰ نے جواب یہی دیا۔قَدْ سَبَقَ الْقَوْلُ مِنِّي (الحديث) وَ حَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَا هَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء: 96)