حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 349
349 پیشگوئی میں کسی قدر اخفاء اور متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہی ہمیشہ سنت الہی ہے ملا کی بنی اگرا اپنی پیشگوئی میں صاف لکھ دیتا کہ الیاس خود نہ آئے گا بلکہ اس کا مثیل تو حضرت عیسی کے ماننے میں اس قدر وقتیں اس زمانے کے علماء کو پیش نہ آتیں۔ایسا ہی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئیاں توریت اور انجیل میں ہیں وہ نہایت ظاہر الفاظ میں ہوتیں کہ آنے والا نبی آخر زمان اسماعیل کی اولاد میں سے ہوگا اور شہر مکہ میں ہوگا تو پھر یہودیوں کو آپ کے ماننے سے کوئی انکار نہ ہوسکتا تھا لیکن خدا تعالیٰ اپنے نبدوں کو آزماتا ہے۔کہ ان میں متقی کون ہے جو صداقت کو اس کے نشانات سے دیکھ کر پہچانتا اور اس پر ایمان لاتا ہے (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 218-217) یہ بات نہایت کارآمد اور یا در کھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدد۔ان کی نسبت جو پہلی کتابوں ہیں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں ان کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور ایک متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں۔پس جن کے دلوں میں زیغ اور کبھی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بینات اور محکمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 477-476)