حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 345 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 345

345 وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمْتِ أَنْ لَّا إِلهُ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ - (الانبياء : 88) دعا بہت بڑی سپر کامیابی کے لئے ہے۔یونس کی قوم گریہ وزاری اور دعا کے سبب آنیوالے عذاب سے بچ گئی۔میری سمجھ میں محا تبت مغاضبت کو کہتے ہیں اور حوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی۔پس حضرت یونس کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے سے ان کو شکوہ اور شکایت کا خیال گزرا کہ پیشگوئی اور دعا یوں ہی رائیگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی۔پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے اور رونا دھونا اور صدقات فرد قرار داد جرم کو بھی ردی کر دیتے ہیں۔اصول خیرات کا اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کے لئے ہیں۔علم تعبیر الرویا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔اس لیے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق و ثبات دکھاتا ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل و قال سے کچھ نہیں بنتا جیتک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جاوے۔صدقہ اس کو اسی لیے کہتے ہیں کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔حضرت یونس کے حالات میں در منثور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا۔تجھے رحم آ جائے گا این مشتِ خاک را گر نه بکشم چه کنم ترجمہ:۔اگر اس مٹھی بھر خاک کو نہ بخشوں تو کیا کروں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 155) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے۔کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔(المائدہ:68) اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخر زمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364-363)