حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 344
344 چھٹی فصل قرآن حکیم کی پیشگوئیاں قرآنی قصے دراصل پیشگوئیاں ہیں اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی در حقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرا دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔قرآن بہت سی پیشگوئیوں سے بھرا پڑا ہے (چشمہ معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 271) الم۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَ هُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ۔فِي بِضْعِ سِنِيْنَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ (الروم 2 تا5) قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے تذکرہ پر فرمایا کہ السم۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ میں کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ایرانی مشرک تھے اور رومن عیسائی تھے مگر قیصر روم نے جس کا نام ہر قتل تھا جیسا کہ بخاری میں درج ہے اسلام کی عظمت کا اعتراف کیا تھا اور اس طرح پر موحد ہی تھا۔غرض جب ایرانیوں نے رومیوں پر فتح پائی تو کفار مکہ نے یہ سمجھ لیا کہ ہم بھی غالب ہوں گے لیکن خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں ان کو بتا دیا کہ ایرانی پھر مغلوب ہو جائیں گے۔بعض نے اس پیشگوئی کو انکل کہا مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ اس میں دوہری پیشگوئی ہے کہ اسی دن اسلام کی بھی فتح ہوگی چنانچہ بدر کی لڑائی میں جب فتح ہوئی اسی دن ایرانی مغلوب ہوئے۔الحکم جلد 5 نمبر 40 مورخہ 10 نومبر 1903، صفحہ 4) ( تفسیر حضرت اقدس جلد 7 صفحہ 5) قرآن میں انذاری پیشگوئیاں مشروط ہیں قَالَ يَقُوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ - ( نوح : 3 ) قرآن شریف میں حضرت نوح سے لے کر ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر نافرمانوں کے حق میں انذاری پیشگوئیاں ذکر فرمائی گئی ہیں وہ سب شرطی طور پر ہیں جن کے یہی معنے ہیں کہ فلاں عذاب تم پر آنے والا ہے۔پس اگر تم تو بہ کرو اور نیک کام بجالا ؤ تو وہ موقوف رکھا جائے گا اور نہ تم ہلاک کئے جاؤ گے۔الصل ایام اصلح۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 233 )