حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 346 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 346

346 اسلام کے بارے میں پیشگوئیاں کفار نے کس دعوی کے ساتھ اپنی را ئیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دینگے اور ان کے مقابل پر یہ پیشگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہرگز تباہ نہیں ہوگا یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے اور جیسا کہ گزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْتَه (الفتح: 30) میں اشارہ ہے۔أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ۔أَمْ يَقُوْلُوْنَ جنگ مقدس۔رخ جلد 6 صفحہ 291-290) نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ - (القمر: 44 تا46) کیا تمہارے کا فرفرعونی گروہ سے کچھ بہتر ہیں یا تم خدا کی کتابوں میں معذب اور ماخوذ ہونے سے منتقلی اور بری قرار دیئے گئے ہو۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی قومی جماعت ہے کہ جوز بر دست اور فتح مند ہے۔عنقریب یہ ساری جماعت پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگے گی۔( براھین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحہ 255 حاشیہ نمبر (11) آپ نے کس حوصلہ اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا کہ فَكِيْدُوْنِي جَمِيْعًا (هود: 56) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔سارے فریب مکر استعمال کرو قتل کے منصوبے کرو۔اخراج اور قید کی تدبیریں کرو مگر یاد رکھو سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلَّوْنَ الدُّبُرَ آخر فتح میری ہے۔تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہو جاویں گی اور پیٹھ دے نکلیں گی۔جیسے وہ عظیم الشان دعوى انني رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا کسی نے نہیں کیا اور جیسے فکیدونی جمیعا کہنے کی کسی کی ہمت نہ ہوئی۔یہ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔یہ الفاظ اسی مونہہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سائے کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 345) قرآن میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں یادر ہے کہ قرآن شریف میں دو قسم کی پیشگوئیاں ہیں ایک قیامت کی اور ایک زمانہ آخری کی۔مثلاً جیسے یا جوج ماجوج کا پیدا ہونا اور ان کا تمام ریاستوں پر فائق ہونا۔یہ پیشگوئی آخری زمانہ کے متعلق ہے اور حدیث مسلم نے پیشگوئی يُتْرَكَ الْقَلاَصُ میں صاف تشریح کر دی ہے اور کھول کر بیان کر دیا ہے کہ مسیح کے وقت میں اونٹ کی سواری ترک کر دی جائے گی۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 198-197)