حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 332 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 332

332 اور مولویوں کا یہ کہنا کہ قرآن کے معنے اسی قدر درست ہیں جو احادیث صحیحہ سے نکل سکتے ہیں۔اور اس سے بڑھ کر بیان کرنا معصیت ہے چہ جائیکہ موجب کمال سمجھا جائے۔یہ سراسر خیالات باطلہ ہیں۔ہمارا یہ دعوی ہے کہ قرآن اصلاح کامل اور تزکیہ اتم اور اکمل کے لئے آیا ہے اور وہ خود دعوی کرتا ہے کہ تمام کامل سچائیاں اس کے اندر ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَة۔تو اس صورت میں ضرور ہے کہ جہاں تک سلسلہ معارف اور علوم الہیہ کا ممتد ہو سکے وہاں تک قرآنی تعلیم کا بھی دامن پہنچا ہوا ہو اور یہ بات صرف میں نہیں کہتا بلکہ قرآن خود اس صفت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اپنا نام اکمل الکتب رکھتا ہے پس ظاہر ہے کہ اگر معارف الہیہ کے بارے میں کوئی حالت منتظرہ باقی ہوتی جس کا قرآن شریف نے ذکر نہیں کیا تو قرآن شریف کا حق نہیں تھا کہ وہ اپنا نام اکمل الکتب رکھتا۔حدیثوں کو ہم اس سے زیادہ درجہ نہیں دے سکتے کہ وہ بعض مقامات میں بطور تفصیل اجمالات قرآنی ہیں سخت جاہل اور نا اہل وہ اشخاص ہیں کہ جو قرآن شریف کی تعریف اس طور سے نہیں کرتے جو قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ اس کو معمولی اور کم درجہ پر لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔(سراج منیر۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 41) قرآن کے اعجازی معارف جو غیر محدود ہیں ان پر ایک یہ بھی دلیل ہے کہ ظاہر اور معمولی معنے تو ہر ایک مومن اور فاسق اور مسلم اور کافر کو معلوم ہیں اور کوئی وجہ نہیں جو معلوم نہ ہوں۔تو پھر نبیوں اور عارفوں کو ان پر کیا فوقیت ہوئی۔اور پھر ا سکے کیا معنے ہوئے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۔(الواقعه: 80) قرآن کریم کی تفصیل (سراج منیر۔رخ- جلد 12 صفحہ 42) پھر فرمایا ثُمَّ فَصَلَتْ (هود:2)۔ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ہر زمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں فلسفی اپنے رنگ میں طبیب اپنے مذاق پر صوفی اپنے طرز بیان پر کرتے ہیں اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم وخبیر خدا نے رکھی ہے۔حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہو اور پھر عمل بھی کامل ہو۔ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے۔حکمت کے معنی وَضعُ الشَّيْء فِي مَحَلَّه اور خَبِير مبالغہ کا صیغہ ہے۔یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہئیں، چنانچہ اس کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجد دو مصلح احیاء دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصل آتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 346)