حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 333 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 333

333 قرآن شریف میں غیر محدود معارف ہونے کا فلسفہ اگر دوسرے معنی بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذا اس کانٹے پیرا یہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصہ ظہور لانا نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہونے کا دعوی کرتی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہ کرے تو وہ ہرگز خاتم الکتب نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالت زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن بلا ریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورت لاحقہ کا کامل طور پر متکفل ہے۔پرس پر (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 261-260) قرآن کریم کو کھول کر دیکھو کتنے مقام میں اس مضمون کی آیتیں ہیں کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الجمعة: 3) یعنے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے اور پھر ایک جگہ اور فرماتا ہے وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه : 80) یعنے قرآن کے حقائق و دقائق انہیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کیلئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔اگر قرآن کے سیکھنے کیلئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی۔اور یہ کہنا کہ ابتدا میں تو حل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں ماسوا اسکے امت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں اور قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کر نیوالے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رُسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کاروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کاروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔شہادت القران - ر-خ- جلد 6 صفحہ 348)