حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 331
331 قرآن شریف غیر محدود معارف رکھتا ہے وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِيْنٍ۔(الانعام: 60) میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔لا رطب و لَا يَابِسٍ إِلَّا فنی کتب مُّبِینٍ۔یہ ایک تا پیدا کنار سمندر ہے اپنے حقائق اور معارف کے لحاظ سے اور اپنی فصاحت و بلاغت کے رنگ میں۔اگر بشر کا کلام ہوتا تو سطحی خیالات کا نمونہ دکھایا جاتا مگر یہ طرز ہی اور ہے جو بشری طرزوں سے الگ اور ممتاز ہے۔اس میں با وجود اعلیٰ درجہ کی بلند پروازی کے نمود و نمائش بالکل نہیں۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 455) ماسوا اس کے یہ بھی ان حضرات کی سراسر غلطی ہے کہ قرآن کریم کے معانی کو بزمانہ گذشتہ محدود مقید سمجھتے ہیں۔اگر اس خیال کو تسلیم کر لیا جاوے تو پھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا۔اور اگر ہو بھی تو شاید ان عربیوں کے لئے جو بلاغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔جاننا چاہیئے کہ کھل کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم وساکت و لا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآن شریف اپنے حقائق ودقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک خواندہ ناخواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔و من لم يؤمن بذالک الاعجاز فو الله ماقدر القرآن حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما و قرالرسول حق توقيره۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 257-255) اے بندگان خدا ! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس کے اعلیٰ معارف کا دعوی کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص بر ہمو ی بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفۂ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 258-257)