حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 266 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 266

266 در مین فارسی مترجم صفحه 172) ( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 2) وہ رحیم خدا وہ خدا ہے جس نے امتیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھلاتا ہے اگر چہ وہ پہلے اس سے صریح گمراہ تھے اور ایسا ہی وہ رسول جو ان کی تربیت کر رہا ہے ایک دوسرے گروہ کی بھی تربیت کرے گا جو انہیں میں سے ہو جائیں گے اور انہیں کے کمالات پیدا کر لیں گے مگر ابھی وہ ان سے ملے نہیں اور خدا غالب ہے اور حکمت والا۔اس جگہ یہ نکتہ یادر ہے کہ آیت وَاخَرِينَ مِنْھم میں آخرین کا لفظ مفعول کے محل پر واقع ہے گویا تمام آیت معدہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَة ويعلم الا خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور جیسی نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت اُس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پر ہو جائے گا اور فقراء کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی رہے گی تب خدا تعالیٰ کسی نفس سعید کو بغیر وسیلہ ظاہری سلسلوں اور طریقوں کے صرف نبی کریم کی روحانیت کی تربیت سے کمالِ روحانی تک پہنچا دے گا اور اس کو ایک گروہ بنائے گا اور وہ گروہ صحابہ کے گروہ سے نہایت شدید مشابہت پیدا کرے گا کیونکہ وہ تمام و کمال آنحضرت ﷺ کی ہی زراعت ہوگی اور آنحضرت ﷺ کا فیضان ان میں جاری وساری ہوگا اور صحابہؓ سے وہ ملیں گے۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 208 تا 210) منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعمائے حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود۔کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں۔وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول ﷺے موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہؓ کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لئے مربی بے واسطہ تھے اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول ﷺ کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے جیسا کہ آیت وَ ا خَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سے سمجھا جاتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 224) مسیح وقت اب دنیا میں آیا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا مجھ کو پایا مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب وہی کے ان کو ساقی نے پلا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي