حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 267 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 267

267 ( در شین اردو صفحه 52) ہر ایک نبی کا ایک بحث ہے مگر ہمارے نبی ﷺ کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ واخر يُنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة:4) ہے تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گر وہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے اور صحابہ کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت اللہ سے فیض اور ہدایت پائیں گے پس جبکہ یہ امرنص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیرکسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ گئی کہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو سیح موعود اور مہدی موعود کے ظہور سے پورا ہوا غرض جبکہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہوئے تو جو بعض حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ ہزار شم کے اخیر میں معبوث ہوئے تھے اس سے بعث دوئم مراد ہے جونص قطعی آیت کریمہ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ سے سمجھا جاتا ہے۔تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 248 تا 249 حاشیہ ) صلى الله آنحضرت ﷺ کے معجزات و برکات کا مشاہدہ کرنے والے دو گروہ پس جس حالت میں مسیح موعود اور فارسی الاصل کا زمانہ بھی ایک ہی ہے اور کام بھی ایک ہی ہے یعنی ایمان کو دوبارہ قائم کرنا اس لئے یقینی طور پر ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہی فارسی الاصل ہے اور اسی کی جماعت کے حق میں یہ آیت ہے وَا خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِہم۔اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ کمال ضلالت کے بعد ہدایت اور حکمت پانے والے اور آنحضرت ﷺ کے معجزات اور برکات کو مشاہدہ کرنے والے صرف دوہی گروہ ہیں اول صحابہ آنحضرت ﷺ جو آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پہلے سخت تاریکی میں مبتلا تھے اور پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے زمانہ نبوی پایا اور مجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور پیشگوئیوں کا مشاہدہ کیا اور یقین نے ان میں ایک تبدیلی پیدا کی کہ گویا صرف ایک روح رہ گئے۔دوسرا گروہ جو بموجب آیت موصوفہ بالاصحابہ کی مانند ہیں مسیح موعود کا گروہ ہے کیونکہ یہ گروہ بھی صحابہ کی مانند آنحضرت ﷺ کے معجزات کو دیکھنے والا ہے اور تاریکی اور ضلالت کے بعد ہدایت پانے والا۔اور آیت ( خَرِيْنَ مِنْهُم میں جو اس گروہ کو منھم کی دولت سے یعنی صحابہؓ سے مشابہ ہونے کی نعمت سے حصہ دیا گیا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے یعنی جیسا کہ صحابہ نے آنحضرت ﷺ کے معجزات دیکھے اور پیشگوئیاں مشاہدہ کیں ایسا ہی وہ بھی مشاہدہ کریں گے۔(ایام الصلح۔رخ جلد 14 صفحہ 305 )