حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 265 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 265

265 قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش شدہ صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی روسے کہ إِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو ا خَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمع: 4) کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 60) جو کچھ اللہ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہوئی تھی ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح ومہدی کا زمانہ۔یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور بچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر فیح اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بِہم آیا ہے۔سو یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے کہ آنیوالے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں گی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 25) حضرت اقدس اور ان کی جماعت بھی صحابہ ء رسول اکرم صلى الله صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے۔چنانچہ فرمایا وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُو بہم یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ سیح موعود کی جماعت ہے منھم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہوگا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول ﷺ کی تربیت کے نیچے ہوں گے اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے جیسے ان صفات اربعہ کا ظہور ان صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری ہے کہ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بہم کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔ل صفحه 431) ( ملفوظات جلد اوّ بکوشید اے جو اناں تا بدیں قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا اے جوانو! کوشش کرو کہ دین میں قوت پیدا ہو اور ملت اسلام کے باغ میں بہار اور رونق آئے۔اگر یاراں کنوں بر غربت اسلام رحم آرید با صحاب نبی نزد خدا نسبت شود پیدا اے دوستو! اگر اب تم اسلام کی غربت پر رحم کرو تو خدا کے ہاں تمہیں آنحضرت کے صحابہ سے مناسبت پیدا ہو جائے۔نفاق و اختلاف ناشناسان از میاں خیزد کمال اتفاق و خلت و الفت شود پیدا نا اہل لوگوں کا آپس کا اختلاف اور نفاق دور ہو جائے اور کمال درجہ کا اتفاق دوستی اور محبت پیدا ہو جائے۔