حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxvi of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxvi

xxiii اظہار تشکر حضرت اقدس کی تحریر اور تقریر سے خاکسار کی محبت بہت قدیم سے ہے۔اس محبت کے اظہار میں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ آپ کے افاضات کے تعلق میں کوئی خدمت کروں۔آج سے پچاس سال قبل بھی ایک خدمت کا منصوبہ بنایا تھا۔مگر وہ اس زمانے میں وسائل کی کمی اور میری کم ہمتی کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔اس دوران میں جماعت کے زیر انتظام تفسیر حضرت اقدس کے عنوان سے کتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا تو میری دلی تمنا پھر بیدار ہوئی اور میں نے یہ سمجھا کہ اگر ان کتب کا مطالعہ کر کے حضرت اقدس کے بیان فرمودہ فہم قرآن کے اصول اور اسالیب کو موضوعات کے تحت ترتیب دے دیا جائے تو یہ بھی ایک خدمت ہوگی۔اور قرآن کریم کی عظمت کے پیش نظر دیگر تمام خدمتوں سے یقینا بہتر ہوگی۔چنانچہ اس تالیف میں بیش سے بیشتر اقتباسات تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آٹھ جلدوں سے اخذ کئے گئے ہیں۔تاہم بعض مقامات میں مضمون کی تشنگی کی بنا پر حضرت کی دوسری کتب سے بھی افادہ کیا گیا ہے۔موضوعات کے تحت حضرت اقدس کے اردو فارسی اور عربی اشعار کا چناؤ اور الہامات حضرت اقدس کا انتخاب خالصۂ خاکسار کا ہے۔اس تالیف کی تکمیل میں ہیں سال سے بھی زائد عرصہ صرف ہوا ہے۔اس طویل عرصہ کی ایک وجہ کار کردگی میں بے قاعد گی بھی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت کی تحریر وتفسیر ایک ایسا بحر بیکراں ہے کہ اس کا احاطہ کرنا ایک ناممکن بات ہے۔اس وسعت افاضات حضرت اقدس کیسا تھ ایک بہت اہم اور مشکل مرحلہ یہ بھی تھا کہ حضرت کے عرفان کو اس طور سے سمجھنا کہ ان کو موضوعات کے تحت مقرر کیا جائے ایک استعداد علمی کا محتاج تھا۔اور یہ استعداد بار بار مطالعہ کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ہی پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ اگر بہت ہی کم اندازہ بیان کروں تو ایسے ہے کہ ہر ایک اقتباس کو اس کی معنوی نشست کی تعیین کرنے کے لئے دس مرتبہ سے زائد پڑھا گیا ہے۔اس محنت کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ موضوعات کی تعیین اور اقتباسات کے انتخاب اور ان کی ترتیب وارنشست میں سقم رہ گیا ہوگا۔اس کوتاہی پر معذرت ہی کرسکتا ہوں۔و ما توفیقی الا بالله۔دراصل یہ خدمت حضرت اقدس کے فرمودات کی موضوعات کے اعتبار سے ایک تبویب ہے۔تاکیداً کوشش کی گئی ہے کہ حضرت کے فرمودات کے سوا کسی اور کے قول و بیان کا اس میں دخل نہ ہو۔یہاں تک کہ مضامین کے عنوانات قائم کرنے میں بھی یہ احتیاط برتی گئی ہے کہ ان کے الفاظ حتی المقدور آپ ہی کے ہوں۔