حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxvii
xxiv جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ اس تالیف کے اکثر حوالے تفسیر حضرت اقدس کے نسخوں سے لئے گئے ہیں۔مگر حوالہ جات کی مزید تحقیق کی غرض سے تقریباً تمام حوالہ جات حضرت اقدس کی کتب (روحانی خزائن ) اور ملفوظات میں دوبارہ مشاہدہ کر کے ان ہی کے مطابق کر دیئے گئے ہیں۔چند ایک ایسے ہونگے کہ باوجود تلاش بسیار کے اصل کتب میں دستیاب نہ ہوئے ہوں۔اس صورت میں تفسیر حضرت اقدس کے حوالے کو ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ایک گزارش اور بھی ہے کہ حضرت اقدس کے وہ حوالے جو عربی زبان میں ہیں اس تحریر کو تفسیر کی کتب میں حرکات دی گئی ہیں۔جبکہ حضرت اقدس کی کتب میں اکثر مقامات میں عربی عبارت پر حرکات نہیں ہیں۔اس لئے اس اختلاف سے صرف نظر کیا جائے۔ایک ضروری وضاحت یہ بھی ہے کہ اس تالیف میں چند مقامات پر اقتباسات میں بظاہر تکرار معلوم ہوگی اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کا اسلوب بیان اس طور پر ہے کہ آپ ایک ہی فرمان میں بہت سے مضامین پر روشنی ڈال رہے ہوتے ہیں۔اس لئے اس فرمان کا مکرر پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔شاید چند ایک مقامات میں ہمارے تساہل کا دخل بھی ہو۔اس کے لئے معذرت کرتے ہیں۔یہ تالیف حضرت اقدس کے خداداد فہم قرآن کے موضوع کے تحت تیار کی گئی ہے اس لئے اس کا دستور اس طور سے ہے کہ اول اس موضوع پر حضرت اقدس کے جو فرمودات ہیں ان کو اخذ کیا گیا ہے۔دوسرے درجے پر حضرت اقدس نے جن معانی میں آیات قرآنیہ کی تفسیر و تعبیر کی ہے ان کو آیات کے تحت درج کیا گیا ہے۔کیونکہ اس طور پر بھی آپ کے فہم قرآن کے اسالیب پر روشنی پڑتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اسالیب فہم قرآن کو اخذ کرنے کا اصل قرینہ یہی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آپ نے فرمودات قرآنیہ کا کیا مفہوم لیا ہے اور ان کو کن معانی میں سمجھا ہے۔اس تالیف کو اول ابواب میں اور ہر باب کے تحت فصول میں ترتیب دیا گیا ہے۔کل ابواب دس ہیں۔اول باب فہم قرآن اور منصب حضرت اقدس علیہ السلام کے عنوان پر قائم کیا گیا ہے۔جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ یہ باب در اصل حضرت اقدس کے خداداد فہم قرآن کی اہمیت اور پر عظمت مقام کا وہ تعارف ہے جو حضرت اقدس نے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر خود بیان کیا ہے۔اور دوسرا باب یعنی ” حضرت کا ذکر قرآن میں حضرت کے اسالیب فہم قرآن کو اخذ کرنے کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔کیونکہ اس میں دراصل آپ نے اپنے دعاوی کی تصدیق میں قرآنی فرمودات کو پیش کیا ہے۔اور آپ کا یہ بیان تو پیش کیا جا چکا ہے۔کہ آپ کے دعاوی کا فہم، فہم قرآن کی کلید ہے۔دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت اقدس کی تفہیمات قرآنیہ کے بارے میں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ آپ نے اپنے دعاوی کی تصدیق کی غرض سے قرآن کے فرمودات کو پیش کیا ہے۔اس لئے جس فرمانِ قرآن کو آپ اپنے صدق دعوی پر محمول کر رہے ہیں اس فرمان کے کوئی اور معانی اور تفسیر کرنا آپ کے دور خسروی میں کسی طور سے روا نہیں ہو سکتا۔ایسے عمل سے نہ صرف یہ کہ فہم قرآن کی کلید ہاتھ سے نکل جاتی ہے بلکہ ایسا عمل آپ کے دعاوی کی صداقت کے قرآنی ثبوت پر پردہ اخفاء ڈالنے کا موجب ہوتا ہے۔اور آپ کی بعثت کی وہ اغراض جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان کو کالعدم کرتا ہے۔یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جس کی پاسداری میں ہم نے یہ باب باندھا ہے۔اور اس کو قدر تفصیل سے بیان کیا ہے۔اور آپ کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر کو ایک جداگانہ منصب دیا ہے۔اور یہ حقیقت تو بیان ہو چکی ہے سورۃ فاتحہ قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ اور سرنامہ ہے۔