حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxv of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxv

xxii نزول فہم قرآن کے اس مقصد کی وضاحت میں حضرت اقدس فرماتے ہیں۔صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تغیر نہ ہو مثلا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة: 7) کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آسکتا ہے کہ اس سے مراد یہو د نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا ایسے ہی آخری زمانے میں اس اُمت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا۔اسی لیے اوّل ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 449) اور تیسرا بہت ہی اہم امر یہ ہے کہ اب جبکہ قرآن کریم کی تعبیر و تفسیر کو ایک مضبوط قلعہ کی دو نا قابل تسخیر فصیلوں میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔تو کسی فردامت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قرآن کریم کے ان دو پشتی بانوں اور مامنوں کے فرمودات کی راہ نمائی سے صرف نظر کر کے اور ان کے بتائے ہوئے اسالیب فہم قرآن کے کامل اتباع کئے بغیر اپنی عقل و فہم کے مطابق قرآن کریم کے معانی اور تفسیر بیان کرے۔اس قلعہ بندی کے بعد جو تفسیر و تعبیر قرآن اس کی دیواروں سے باہر بیٹھ کرکھی جائے گی اس کی صداقت پر مہر الہ نہیں ہوگی اور وہ لوح محفوظ کے مندرجات میں شمار نہیں کی جائے گی۔حضرت اقدس کی بعثت کے بعد قرآن کریم کے حصن حصین کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔اس حریم قدس میں کسی غیر کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔یہی وہ راز ہے جس کو آپ نے منصب حکم و عدل کی تعریف میں بیان کیا ہے۔آپ قرآن کریم کے عرفان کی آخری تجلی ہیں۔آپ امام آخر زمان ہیں۔اور قرآن کریم کے خانے کی شراب معرفت کا آخری دور جام ہیں۔اس لئے قرآن کریم کا فہم و ادراک صرف اور صرف اس جام کو نوش کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے۔آپ کا یہ شعر کسقدر با معنی اور دلفریب ہے۔احمد آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جام من است ( احمد آخر زمان میرا نام ہے اور ( معرفت الہی میں ) میرا جام آخری جام ہے۔) والسلام غلام احمد آخر زماں