حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 214
214 چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ دوبارہ تشریف لا نا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جوخلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ (تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 263) آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔ہمچنیں عشقم بروئے تا مرا منکہ مے مصطفی دل پرو چون مرغ سوئے مصطفی ایسا ہی عشق مجھے مصطفی کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفیٰ کی طرف اڑ کر جاتا ہے دادند از حسنش خبر شد دلم از عشق او زیر و زبر جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اسکے عشق میں بے قرار رہتا ہے جاں فشانم گر دید دل دیگرے ے بینم رخ آن دلبری میں جو کہ اس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اور اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار ساقی من هست آں جاں پرورے ہر زمان مستم کند از ساغری وہی روح پرور شخص تو میرا شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے روئے او شد است ایں روئے من ہوئے او آید زیام و کوئے من یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اسی کی خوشبو آ رہی ہے بسکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم - من همانم - من ہماں از بسکہ میں اس کے عشق میں غائب ہوں میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا ! میری روح اسکی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریہاں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد پدید اسم من گردید اسم آں وحید احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے مجھ ( در شین فارسی متر جم صفحه 228 ) ( سراج منیر۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 97-96)