حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 213
213۔° وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ۔(الجمعة: 4) وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ يَعْنِي يُزَكَّى النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ اخَرِيْنَ مِنْ أُمَّتِهِ بِتَوَجُهَاتِهِ الْبَاطِنِيَّةِ كَمَا كَانَ يُزَكِّيْ صَحَابَتَهُ۔ترجمه از مرتب: وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے آخرین کا اپنی باطنی تو جہات کے ذریعہ اسی طرح تزکیہ فرمائیں گے جیسا کہ آپ اپنے صحابہ کا تزکیہ فرمایا کرتے تھے۔(حمامتہ البشری - ر-خ- جلد 7 صفحہ 244) اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانی علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے یعنی خدا اور اس کی صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے تھے تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول امی بھیجا اور اس رسول نے ان کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے ان کو مملو کیا یعنی نشانوں اور منجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا اور خدا شناسی کے نور سے ان کے دلوں کو روشن کیا اور پھر فرمایا کہ ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ ان کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اس کو واپس لائے گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانے میں فارسی الاصل پیدا ہو گا۔اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا۔یہی وہ زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے۔(ایام است۔رخ۔جلد 14 صفحہ 304) اسلام پر تین زمانے گزرے ہیں ایک قرون ثلاثہ اس کے بعد میج اعوج کا زمانہ جس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ لَيْسُوا مِنّى وَ لَسْتُ مِنْهُمْ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں اور تیسرا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ سے ملحق ہے بلکہ حقیقت میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے فیج اعوج کا ذکر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بھی فرماتے تو یہی قرآن شریف ہمارے ہاتھ میں ہے اور وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِم صاف ظاہر کرتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہے جو صحابہ کے مشرب کے خلاف ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ اس ہزار سال کے درمیان اسلام بہت ہی مشکلات اور مصائب کا نشانہ رہا ہے۔معدودے چند کے سوا سب نے اسلام کو چھوڑ دیا اور بہت سے فرقے معتزلہ اور اباحتی وغیرہ پیدا ہو گئے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 67)