حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 215 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 215

215 آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی کے اعتبار سے یہ عجیب بات ہے کہ نادان مولوی جن کے ہاتھ میں صرف پوست ہی پوست ہے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی انتظار کر رہے ہیں مگر قرآن شریف ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے کیونکہ افاضہ بغیر بعث غیر ممکن ہے۔اور بعث بغیر زندگی کے غیر ممکن ہے اور حاصل اس آیت کریمہ یعنی وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ کا یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رسول ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جو ہزار ششم میں بھی مبعوث ہو کر ایسا ہی افاضہ کرے گا جیسا کہ وہ ہزار پنجم میں افاضہ کرتا تھا۔اور مبعوث ہونے کے اس جگہ یہی معنی ہیں کہ جب ہزار ششم آئیگا اور مہدی موعود اس کے آخر میں ظاہر ہوگا تو گو بظاہر مہدی معہود کے توسط سے دنیا کو ہدایت ہو گی لیکن دراصل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نئے سرے اصلاح عالم کی طرف ایسی سرگرمی سے توجہ کرے گی کہ گویا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم دوبارہ مبعوث ہو کر دنیا میں آگئے ہیں۔یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعة: 4)۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 249-248 حاشیہ) لہذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث (۱) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح: 30) (۲) دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَد (الصف: 7) اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باعتبار اپنی ذات اور اپنے تمام سلسلہ خلفاء کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ظاہر اور کھلی کھلی مماثلت ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بلا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کے رنگ پر مبعوث فرمایا۔لیکن چونکہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی سے ایک مخفی اور باریک مماثلت تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک بروز کے آئینہ میں اس پوشیدہ مماثلت کا کامل طور پر رنگ دکھلا دیا۔پس در حقیقت مہدی اور صحیح ہونے کے دونوں جو ہر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود تھے۔خدا تعالیٰ سے کامل ہدایت پانے کی وجہ سے جس میں کسی استاد کا انسانوں میں سے (تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 254) احسان نہ تھا۔