حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 212 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 212

212 آنحضرت کے بروز ہونے کے اعتبار سے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ط وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب: 41) آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مُہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعہ: 4) بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور پر آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔اور چونکہ میں فلمی طور پر محمد ہوں۔پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد اے کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد ﷺ ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ایک غلطی کا ازالہ رخ جلد 18 صفحہ 212) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اس لئے قرآن شریف کی آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ: 4) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی تحمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیئے تھا اس وقت باعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا۔سو اس فرض کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کیلئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔(تحفہ گولڑویہ۔۔۔خ۔جلد 17 صفحہ 263 حاشیہ ) اللہ تعالی نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کی جماعت سے ملنے والی ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود والی جماعت ہے اور یہ گویا صحابہ کی ہی جماعت ہوگی اور وہ مسیح موعود کے ساتھ نہیں در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ساتھ ہے کیونکہ مسیح موعود آپ ہی کے ایک جمال میں آئے گا اور تکمیل تبلیغ اشاعت کے کام کے لئے وہ مامور ہو گا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 405)