حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 203 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 203

203 مثیل ابراہیم ہونے کے اعتبار سے وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَاَمْنًا ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِم مُصَلَّى ، وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِمَ وَإِسْمَعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقره: 126) آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاهِمَ مُصَلَّی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اُس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔اربعین۔رخ جلد 17 صفحہ 421) یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالا ؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اربعین - رخ جلد 17 صفحہ 421-420) اپنے تئیں بناؤ۔وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس جگہ مقامِ ابراہیم سے اخلاق مرضیہ و معاملہ باللہ مراد ہے یعنی محبت الہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے۔اُس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 608) میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار در نتین اردو ) ( براہین احمدیہ۔۔جلد 21 صفحہ 106) مثیل بیجنی ہونے کے اعتبار سے ييُحْيِي خُذِا لَكِتَبَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَهُ الْحُكْمَ صَبِيَّان (مريم: 13) حضرت اقدس نے اپنا ایک پرانا الہام سُنایا يَا يَحْيِي خُذِا لَكِتَابَ بِقُوَّةٍ (اور فرمایا) وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ۔اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت بیٹی کی نسبت دی گئی ہے۔کیونکہ حضرت یحی کو یہود کی اُن اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہورہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہلِ حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 203)