حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 204 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 204

204 خلافت موسوی اور خلافت محمدی کی مماثلت کے اعتبار سے وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ۔(البقره: 88) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بہت سے رسل اس کے پیچھے آئے۔۔۔چونکہ مماثلت فی انعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ بھی متفق ہو سکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو پس اسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسی کو قریباً چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطا کئے گئے کہ وہ رسول اور ملہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خلق سے حق کی طرف دعوت کی اسی طرح ہمارے نبی ﷺ کو بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو برطبق حدیث عُــلــمــاءُ أُمَّتِي كَانُبِيَاءِ بَنِي إِسْرائيل ملھم اور محدث تھے اور جس طرح موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوت حق کی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجاتا وہ بھی صرف خلق اور رحمت اور انوار آسمانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے قریباً چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کی پا گیا اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کے لئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِم بالرُّسُل آیا ہے اور یہ نہیں آیا کہ قَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بالا نبیاء پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید ورسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ خُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ: 40-41) چونکہ ٹلہ کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے اس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس اُمت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی اُمت کے مرسلوں کے برابر ہیں اور در حقیقت اسی کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ ----(إلى) لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا ( النور : 56) یعنی خدا نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ البتہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا۔جیسا کہ ان لوگوں کو کیا۔جوان سے پہلے گزر گئے۔اور ان کے دین کو جو ان کے لئے پسند کیا ہے۔ثابت کر دے گا۔اور ان کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا۔میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔(شہادۃ القرآن - رخ جلد 6 صفحه 322 تا324)