حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 85
85 بکار خانهہ قدرت ہزار ہا نقش اند مگر تجلی رحماں ز نقش ما باشد قدرت کے کار خانے میں ہزاروں نقش ہیں مگر رٹمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے بیامدم که ره صدق را درخشانم بدلستان برم آن را که پارسا باشد میں اس لیے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اسے لے چلوں جو نیک و پارسا ہے بیامدم که در علم و رشد بکشائیم بخاک نیز نمایم که در سما باشد میں اس لئے آیا ہوں کہ علم و ہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمین کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمانی ہیں چنیں زمانہ چنیں دور ایں چنیں برکات تو بے نصیب روی وه چه این شقا باشد ایسا وقت ایسا زمانہ اور ایسی ایسی برکتیں ! پھر بھی اگر تو بے نصیب رہے تو اس بدبختی پر کیا تعجب ہے تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 135 134) یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے۔اور دار النجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله ہے۔(حجتہ الاسلام۔رخ جلد 6 صفحہ 52،53) اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس کے موافق جوا بھی میں نے ذکر کیا ہے۔خدائے تعالیٰ نے اس زمانے کو تاریک پاکر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے تا کہ وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملوں سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 251) باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گاہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب در کھل گئے پھر ہوگئے شہر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 147)