حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 84
84 با اعتبار عظمت رسول اکرم اور صداقت قرآن کریم مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت ﷺ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قد رلوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 9) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (سورة الصف : 10) خدا وند تعالیٰ نے اس احقر العباد کو اس زمانے میں پیدا کر کے اور صد ہا نشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حلقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرمادے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔(براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 596۔حاشیہ در حاشیہ 3) با اعتبار غلبہ اسلام تخمیناًا عرصہ میں سال کا گذرا ہے کہ مجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہو اتھا اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِيْنَ كُلِهِ وه خدا جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور بچے دین کے ساتھ بھیجا تاوہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اور مجھے کو اس الہام کے یہ معنے سمجھائے گئے تھے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا میرے ہاتھ سے خدا تعالی اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے۔اور اس جگہ یادر ہے کہ یہ قرآن شریف میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نسبت علماء متقین کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہوگی۔سوجس قد را اولیاء اور ابدال مجھ سے پہلے گزر گئے ہیں کسی نے ان میں سے اپنے تئیں اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہرایا اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ اس آیت مذکورہ بالا کا مجھے کو اپنے حق میں الہام ہوا ہے لیکن جب میرا وقت آیا تو مجھ کو یہ الہام ہوا اور مجھ کو بتلایا گیا کہ اس آیت کا مصداق تو ہے اور تیرے ہی ہاتھ سے اور تیرے ہی زمانہ میں دین اسلام کی فوقیت دوسرے دینوں پر ثابت ہوگی۔) تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ 231 232) واني بعثت على راس هذه المائة - المباركة الربا نيه - لا جمع شمل الملة الاسلامية وادفع ما۔صيل على كتاب الله و خير البرية - واكسر عصا من عصى واقيم جدران الشريعة - وقد بينت مرارًا - واظهرت للناس اظهارا اني انا المسيح الموعود و المهدى المعهود - وكذالك امرت وما كان لى ان اعصى امر ربي والهق بالمجرمين اعجاز اسیح - رخ جلد 18 صفحہ 8-9) ترجمہ از مرتب : - میں اللہ کی اس بابرکت صدی کے سر پر مبعوث کیا گیا ہوں تا کہ میں ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو مجتمع کروں اور اللہ کی کتاب (قرآن) اور خیر البریہ (حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر جو حملے کئے گئے ہیں ان کا دفاع کروں اور نا فرمانوں کے عصا کو توڑوں اور شریعت کی دیواروں کو استوار کروں میں نے بار ہا بیان کیا ہے اور لوگوں پر کھل کر یہ اظہار کیا ہے کہ میں ہی مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔مجھے ایسا ہی حکم دیا گیا ہے اور میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کروں اور مجرموں کے گروہ میں شامل ہو جاؤں۔