تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 660 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 660

۶۶۰ دونوں مل کر اعجاز المسیح کے معارف کا منبع ہیں۔قرآن شریف میں آیا ہے۔كِلْنَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا - دیکھئے ! اس میں دونوں باغوں کا مل کر چونکہ ایک کام تھا یعنی پھل دینا اس لئے حنتين مثنیہ کے لئے آبت مفرد فعل لایا گیا۔کیونکہ دونوں باغوں کو بحکم واحد قرار دیا گیا ہے۔اور اس قسم کے محاورات عربی زبان میں شائع اور ذائع ہیں۔اعتراض نمبر ۶ واى مُعْجَزَةٍ صفحه ۴۵ وَآيَّةٌ چاہیے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۴) الجواب ہمیں برق صاحب یہ بتارہے ہیں کہ معجزہ مؤنث ہے اور ای مذکر لہذا معجزہ سے پہلے بوجہ اس کے مؤنث ہونے کے آیۂ چاہئیے۔مگر یہ بات ان کی قواعد عربی سے ناواقفی کا کھلا کھلا ثبوت ہے ای کا مؤنث کے لئے استعمال تو خود قرآن مجید میں ہوا ہے چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔(1) بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوتُ دیکھئے ارض مؤنث ہے اور اس کے لئے ای استعمال کیا گیا ہے۔(۲) فَأَيَّ آيَاتِ اللَّهِ تُنْكِرُونَ۔(لقمان آیت ۳۴) (مومن آیت (۸۴) اس میں آیات کا لفظ مؤنث بھی ہے اور جمع بھی مگر اس کے لئے اتنی ہی استعمال ہوا ہے۔(۳) فِي أَى صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكبَكَ اس جگہ صورۃ مؤٹ ہے مگر اس کے لئے آئی ہی استعمال ہوا ہے۔پس برق