تحقیقِ عارفانہ — Page 659
۶۵۹ دینے کے ہیں۔پس يُغتالون (چھپ کر ہلاک کر دیتے ہیں ) کا لفظ اس عبارت میں سفك دم کے لئے قرینہ ہے۔اس لئے یسفکوا کے بعد دم (خون) کا لفظ جو مضاف تھا۔فائلہ سے پہلے حذف کر دیا ہے۔اور قائلہ کو مضاف کا اعراب میں قائم مقام بنا دیا گیا ہے۔جیسے آیت ان تنصرو الله ينصر کم میں اللہ سے پہلے دین کا لفظ جو مضاف تھا حذف کر دیا گیا ہے اور اللہ کو اعراب میں اس کا قائم مقام بنا دیا گیا ہے۔اس پر قرینہ یہ ہے کہ خدا تعالی کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں البتہ اس کے دین کو مدد کی ضرورت ہے۔اس طرح مضاف کا حذف کرنا کلام میں حسن پیدا کرتا ہے۔لہذا فقرہ میں لفظادم کے اضافہ کی ضرورت نہیں۔دیکھئیے۔قرآن مجید میں آیا ہے۔"اِعْدِ لُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقوى۔“ ( عدل کر ووہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔) اس آیت میں ہو کا مرجع کلام العدل چاہیئے جو لفظ مذکور نہیں ہاں فعل هو اِعْدِلُوا کے قرینہ سے العدل کو معنا مراد لے کر اس کی طرف ھو کی ضمیر راجع کی گئی هو ہے۔پس اگر قرینہ موجود ہو تو حذف لفظ مستحسن ہو تا ہے نہ کہ ناجائز۔اعتراض نمبر ۵ جعل قلمي و كلمى منبع العارف ضبع الماط ہے منابع چاہیے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۴) قلمی اور گلمی کو واحد کے حکم میں قرار دے کر معارف کا منبع سر چشمہ ) قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ قلم کلمات کے بغیر معارف کا منبع نہیں بن سکتی۔