تحقیقِ عارفانہ — Page 661
i ۶۶۱ صاحب کا یہ اعتراض ائی کے قرآنی استعمال سے بھی نا واقعی کا ثبوت ہے۔پھر حدیث میں آیا ہے :- أيُّمَا امرأَة نَكَحَتْ بغَيْر إِذن وَلِيْهَا فَنِكَا حُهَا بَاطِلُ۔کہ جو عورت بھی اپنے ولی کے اذن کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے۔اس حدیث میں امراہ مونث حقیقی کے لئے بھی آئی کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔چونکہ جناب برق صاحب عربی گرامر میں مفلس ہیں اس لئے جب انہوں نے یہ دیکھا کہ یہ لفظ مناوی معرف بالام کے صلہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو مذکر کے لئے آئی اور مؤنث کے لئے آيَّةُ استعمال ہوتا ہے۔جیسے أَيُّهَا الرَّجُلُ اور ايتها المرأة تو انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ عربی زبان میں ہر صورت میں مذکر کے لئے آئی استعمال ہوتا ہے اور مؤنث کے لئے آیہ۔حالانکہ یہ بات درست نہیں۔آئی جب استفہامیہ یا شرطیہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے ای استعمال ہوتا ہے۔قرآن مجید سے جو مثالیں اوپر دی گئی ہیں وہ ائی استفہامیہ کی ہیں اور یہ سب مثالیں مؤنث کے لئے ای کے استعمال کی ہیں۔حدیث کی مثال أَيُّمَا المراة اى کے شرطیہ کی صورت میں استعمال کی ہے۔اعتراض نمبر۷ وَمِنْ نَوادِرِ مَا أُعْطِيَ لِي (صفحه ۴۸ اعجاز البح) ماعطیت صحیح ہے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۴) الجواب برق صاحب نے مَا اُعْطِيَ لِی کو غلط قرار دینے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔بے شک اس فقرہ میں مَا اُعْطِيتُ بھی استعمال ہو سکتا ہے مگر جو مفہوم مَا أُعْطِيَ