تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 658 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 658

۶۵۸ وو چمگادڑوں نے گھونسلے کو ان کے دلوں کے لئے بنالیا۔“ ظاہر ہے کہ کوئی معمولی علم رکھنے والا بھی ایسی بے معنی بات نہیں کہہ سکتا۔پس حقیقت یہی ہے کہ احناتهم اصل لفظ ہے جو اتخذ کا مفعول ہے۔اور باوجود احتیاط کے کتابت کی غلطیاں کتاب میں رہ ہی جاتی ہیں۔مثلا دیکھئے برق صاحب نے حضرت مسیح موعود کے اس فقرہ کو نقل کرتے ہوئے اس میں وکر گھونسلہ ) کو اپنی کتاب میں و قرا لکھ دیا ہے جس کے معنے بوجھ کے ہوتے ہیں۔ہے ہم نے فقرہ میں صحیح کر کے وکر لکھا ہے۔کیونکہ اس جگہ گھونسلہ مراد ہے۔پس ہم اس غلطی کو برق صاحب کی لغزش قلم پر ہی محمول کر سکتے ہیں۔پس بعض اوقات کا پی نویس ایسی غلطیاں نقل عبارت کرتے ہوئے کر جاتے ہیں اور پروف پڑھا جانے کے باوجود بھی وہ نظر انداز ہو جاتی ہیں۔اعتراض نمبر ۴ يُرِيدُونَ أَنْ يَسْفِكُوا قَائِلَهُ صفحه ۱۳ سفك كے معنے ہیں بہانا، گرانا۔(وہ چاہتے ہیں کہ قائل کا بہائیں) کیا ؟ خون : تو پھر قَائِلہ سے پہلے دم (خون) کا اضافہ فرمائیے۔الجواب پورا فقرہ یوں ہے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۴) وَلَا يَسْمَعُونَ قَوْلَ الْحَقِّ بَلْ يُرِيدُونَ أَنْ يَسْفِكُوا قَائِلَهُ وَيَغْتَالُونَ۔کہ یہ لوگ کچی بات نہیں سنتے بلکہ چاہتے ہیں کہ وہ بات کہنے والے کا خون بہا دیں اور چھپ کر ہلاک کر دیتے ہیں۔اس جگہ بغنا لون کا لفظ انتہال سے ماخوذ ہے جس کے معنے چھپ کر ہلاک کر