تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 642 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 642

امرءالقیس نے کہا تھا :۔۶۴۲ وَمِنَ الطَّرِيقَةِ حَائِرُ وَهُدَى قَصْدُ السَّهْلِ وَمِنْهُ ذُو دَ حَل شعرائي النصرانيه جلد اصفحہ ۵۷) قرآن مجید میں ہے : - وَمَايُبدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ (سایز ۵۰) ابن الابر ص کہتا ہے :- أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِهِ عَبَيد فَالْيَوْمَ لَا يُبْدِى وَلَا يُعِيدُ پھر قرآن مجید میں ہے : - إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامَاً۔(الفرقان : ۶۶) ابی حازم کہتا ہے :- يَوْمَ النِّسَاءِ وَيَوْمُ الْفَحَارِ كَانَ عَذَاباً وَكَانَ غَرَاماً قرآن مجید میں آیا ہے : - مخلق الانسان من صلصال كالفَعارِ (الرحمن : ۱۵) امیہ ابن ابی الصلت کہتا ہے :- كيف الْجَحُودُ وإِنَّما خُلِقَ الفَتى من طينِ صَلْصَالِ لَهُ فَعارُ قرآن مجید میں ہے : - مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ۔(ليس: ۷۹) زهیر بن ابی سلمی کہتا ہے : - سَيُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قرآن شریف میں ہے : - قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ نس بن ساعدہ کہتا ہے :- كَلَّا بَلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ لَيْسَ بِمَو لُودٍ وَلَا وَالِدُ (الاخلاص : ۲ تا ۴) کیا برق صاحب کا قرآن مجید میں پرانے شعراء کے کلام سے توار داور مشابہت پا کر بھی یہ گستاخانہ کلام کرنے کے لئے تیار ہوں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کا ذخیرہ ختم ہو گیا تھا کہ اس نے شعرائے جاہلیت کے محاورات اور فقرات اڑا لئے اور ادھر ادھر