تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 641 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 641

۶۴۱ اس جگہ عزت و احترام سے باالفاظ طنز یہ گالیاں دینا اور تکفیر و تکذیب ہے۔جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے۔یہ کہ نزول کی عزت۔ارحموا اور اقیلوا دونوں لفظ ٹھیٹھ عربی زبان کے ہیں۔اور سارا کلام طنزیہ ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے۔دق : إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الكَريم یعنی اس عذاب کو چکھ تو بڑا معزز اور باعزت ہے۔“ ایک ضمنی اعتراض برق صاحب لکھتے ہیں۔(الدخان : ۵۰) اللہ کا ذخیرہ الفاظ ختم ہو گیا کہیں قرآن کی آیات دوبارہ نازل کر کے کام چلا یہ کہیں مقامات حریری سے مدد لی۔(دیکھو سورہ فاتحہ کی الہامی تفسیر جس میں مقامات حریری و بدیعی کے بیسوں جملے بالفاظها موجود ہیں۔) کہیں شعرائے جاہلیت کے مصرعے اڑالئے۔(عفت الديار محلّها و مقامها آپ کا ایک الہام ہے یہ سبع معلقات کے ایک قصیدہ کا پہلا مصرع ہے ) اور کہیں ادھر ادھر سے انسانی اقوال لے ہے) لئے مثلاً شكر الله سعيه ( آپ کا المام ) منتهی الارب میں شکر " کے تحت درج ہے۔66 الجواب دری (حرف محرمانه صفحه ۴۰۳) اسی قسم کے اعتراضات نادان عیسائیوں نے قرآن شریف کی الہامی زبان پر " کئے ہیں۔چنانچہ ینابیع الاسلام میں ایسے ہی عتراض کے گئے ہیں۔اس میں بسم الله الرحمن الرحیم کو زرتشت نبی کے کلام سے سرقہ قرار دیا گیا ہے۔آیت قرآنیہ عَلَى اللهِ قَصْدُ اسْبِيْلِ وَمِنْهَا خائر - كو امرء القیس کے کلام کی نقل قرار دیا گیا ہے۔