تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 643 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 643

۶۴۳ سے انسانی اقوال لے لئے ہیں۔(نعوذ با الله ) واضح رہے کہ خدا اور اعلیٰ درجہ کے مصنفین کے کلام میں بھی کئی جگہ پہلے باکمال لوگوں کے کلام سے توارد یا مشابہت پائی جاتی ہے۔جسے سرقہ قرار دینا نادانی ہے۔میرے سامنے اس وقت شعرائے عرب کے کلام کی يحصد مثالیں ایسی موجود ہیں جن میں تضمین پائی جاتی ہے اور اسے کوئی سرقہ قرار نہیں دیتا۔۱۴ : فَا لَيَصْبِرُوا حَتَّى يَرُ مَعُو إِلَى رَبِّهِمْ وَيَطَّلِعُوَ اعَلَىٰ صُوَرِهِمْ (خطبه الهامیه صفحه ۱۵۶ طبع اول نه که صفحه ۱۶۳) برق صاحب اس کا ترجمہ کرتے ہیں :- لیں گے۔“ وہ انتظار کریں جب خدا کے ہاں جائیں گے تو وہاں شیشے میں اپنا منہ دیکھ یہ غلط ترجمہ کر کے برق صاحب معترض ہیں :- ہوتا“ الجواب شیشہ میں منہ دیکھنا اردو کا محاورہ ہے۔عربوں کے ہاں اس کا استعمال نہیں (حرف محرمانه صفحه ۴۱۰) برق صاحب نے صحیح ترجمہ نہیں کیا۔خطبہ الہامیہ میں ہی اس عبارت کے نیچے اردو تر جمہ یہ کیا گیا ہے :- ” پس چاہئیے کہ صبر کریں یہاں تک کہ اپنے پروردگار کے پاس جائیں اور اپنی صورتوں سے واقف ہوں۔“ پس اس جگہ شیشہ میں منہ دیکھنے کا محاورہ نہ عربی عبارت میں استعمال ہوا ہے نہ اردو عبارت میں۔لہذا اعتراض کی بنیاد ہی غلط ہے۔اس عبارت سے یہ بتانا مقصود ہے