تحقیقِ عارفانہ — Page 602
۶۰۲ کچھ شرح بھی بیان کی۔تو ایسی کہ جو استعارہ کی طرف توجہ دلاتی ہے۔“ الجواب (ازالہ اوہام صفحہ ۴۲۷) خط کشیدہ الفاظ سے صاف ظاہر ہے۔کہ پیشگوئیوں کی جو تشریح آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ ان پیشگوئیوں میں استعارہ کا استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اس کے بعد کی عبارت یوں ہے :- " مثلاً کیا ان احادیث پر اجماع ہو سکتا ہے۔کہ مسیح اگر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔اور دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔اور ائن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھر کے فرض طواف کعبہ جا لائیگا کیا معلوم نہیں ؟ کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گزرے ہیں۔وہ کیسے بے ٹھکانہ اپنی اپنی تکمیں ہانک رہے ہیں اگر کوئی بات اجماع کے طور پر تصفیہ یافتہ ہوتی تو کیوں وہ لوگ مختلف خیالات کو ظاہر کرتے۔کیا کفر کا خوف نہیں تھا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۱۸) ۲ : - "اور ان ( کامل لوگوں) کی روح کو خدا تعالیٰ کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۴۶) پوری عبارت یوں ہے :- ” خدا تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کا تعلق ہوتا ہے۔اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی ان کے اندر ہوتی ہے۔اور ان کی روح کو خدا تعالیٰ کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکتا۔اس لئے حضرت احدیت میں ان کا ایک مرتبہ ہوتا ہے۔جس کو خلقت نہیں پہچانتی اور وہ چیز جو خاص طور پر ان میں زیادہ ہے۔اور جو سر چشمہ تمام برکات کا ہے۔اور جس کی وجہ سے یہ ڈوتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں۔اور موت تک پہنچ کر پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور : لتیں