تحقیقِ عارفانہ — Page 48
۴۸ کے ظاہر ہو سکنے کا امکان ہوا ہے۔بلکہ ان میں ایک نبی کے امت میں ظہور کی حتمی پیشگوئی بھی موجود ہے۔جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔محترم برق صاحب کے نزدیک صرف ایک حدیث لو عاش لَكَانَ صِدِّيقًا نبیا (اگر آنحضرت ﷺ کا فرزند ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا ) ایسی ملتی ہے جس سے اجرائے نبوت کا امکان ملتا ہے مگر وہ اس روایت کو بد میں وجہ غلط قرار دیتے ہیں کہ ان کے زعم میں یہ قرآن کریم کی آیات اور دوسری احادیث کے خلاف ہے۔حدیث کی صحت (حرف محرمانه صفحه ۳۲) مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے یہ روایت الشهاب على البيضاوی میں صحیح قرار دی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔أَمَّا صِحَةُ الْحَدِيثِ فَلَا سُبُهَةً فِيهِ یعنی اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔موضوعات کبیر میں امام علی القاری اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں لۂ طرق ثَلَاثُ يُقَوَىٰ بَعْضُهَا بِبَعْض کہ یہ حدیث تین طریقوں (سندوں) سے ثابت ہے جو ایک دوسری سے قوت پارہی ہیں۔پھر لکھتے ہیں :- ويُقَوَى حَدِيث لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا الْبَاعِي" - یعنی یہ حدیث اس حدیث کو بھی قوت دے رہی ہے جس میں آیا ہے کہ۔اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے ( یعنی آنحضرت ﷺ کا زمانہ پاتے ) تو باوجود نبی ہونے کے وہ آپ کے متبع ہوتے۔“