تحقیقِ عارفانہ — Page 47
۴۷ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو۔فاندفع الا وهام بجميع حذا غيره فالحمد لله على ذالك۔خاتم النبیین کی تفسیر حدیث میں الله مندرجہ بالا عنوان کے ماتحت برق صاحب نے خاتم النبین کی تفسیر کے طور نے خاتم پر دس ایسی حدیثیں پیش کی ہیں جو ان کے خیال میں خاتم النبیین کی تفسیر میں نبوت کا دروازه کلیته بند قرار دیتی ہیں۔ہم ان احادیث کا نمبر وار جواب دینے سے پہلے بطور قاعدہ کلیہ ایک اصولی جواب پہلے دے دینا چاہتے ہیں۔جو یہ ہے کہ ان احادیث میں آنحضرت ﷺ کے وصف خاتم النبیین کا صرف منفی پہلو اور لازمی معنی بیان ہوئے ہیں هم قبل از میں آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں بتا چکے ہیں کہ اس میں خاتم کے دو پہلو ہیں۔ایک مثبت اور ایک منفی۔اور منفی پہلو کا مفہوم یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی شریعت جدید و لانے والا نبی یا مستقل نبی ظاہر نہیں ہو سکتا اور مثبت پہلو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی اور آپ کے فیض روحانی سے آپ کا ایک امتی مقام نبوت پا سکتا ہے۔جس کی کیفیت یہ ہوگی کہ خدا اس سے بھرت ہم کلام ہو گا اور اس پر بھرت امور غیبیہ ظاہر کرے گا تا لوگوں کو خدا تعالیٰ پر زندہ یقین اور ایمان حاصل ہو۔اور اس کے ظہور سے آنحضرت ﷺ کے افاضہ روحانیہ کا کمال بھی ثابت ہو۔اس کمال فیضان کے ثبوت میں ہم نے سورہ نساء کی آیت (۷۰) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاء والصَّالِحین پیش کر چکے ہیں۔جو ختم نبوت کے مثبت پہلو پر صراحتا اور منفی پہلو یہ اشارہ دال ہے۔انقطاع نبوت والی حدیثوں کے بالمقابل جو محترم برق صاحب نے پیش کی ہیں بعض ایسی احادیث نبویہ بھی موجود ہیں جن سے امت محمدیہ میں نہ صرف نبی