تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 49 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 49

۴۹ صل الله پس اگر خاتم النبیین کے بعد امتی نبی کا آنا محال ہو تا تو آنحضرت ﷺ یہ نہ فرماتے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہو تا بلکہ یہ فرماتے کہ وہ زندہ بھی رہتا تو نبی نہ ہوتا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔کیونکہ صاحبزادہ ابراہیم کی وفات آیت خاتم السنسین کے نزول کے بعد ہوئی تھی پس معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک خاتم النبیین کے یہ معنی ہر گز نہ تھے کہ آپ کے بعد نبوت کلیۂ منقطع ہے۔امام علی القاری علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو تین طریقوں سے قوی یعنی صحیح قرار دے کر اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔عَلَيْهِ السَّلَامُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَالَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ ( موضوعات کبیر صفحه ۵۸) کہ اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ہو جاتے تو وہ دونوں آپ کے متبعین میں سے ہوتے ( یعنی تابع اور امتی نبی ہوتے نہ کہ آنحضرت مے کی طرح مستقل اور تشریعی نبی ) پھر وہ خود ہی ایک سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ان کا نبی ہو جاتا آیت خاتم السنہین کے بدیں وجہ خلاف نہ ہوتا۔،، "إِذَا لَمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِي يَنسَحُ مِلْنَهُ وَلَمْ يَكُن مِنْ أُمِّيهِ " ( موضوعات کبیر صفحه ۵۹) یعنی خاتم النبین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت مے کے بعد کوئی ایسا نبی النہ ﷺ۔نہیں ہو گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔“ اس بیان میں امام علی القاری نے خاتم النبین کے معنی کے منفی پہلو کی تعیین اور تحدید فرما دی ہے ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی منفی پہلو کا مفہوم صرف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے ( یعنی تشریعی نبی ہو) یا آپ کی امت میں سے نہ ہو (یعنی