تحقیقِ عارفانہ — Page 519
۵۱۹ کو مدعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔“ اس خبر کو سنتے ہی وہ آریہ تکذیب اور استہزاء پر اتر آیا اس وقت جس قدر قلق اور کرب گذرا بیان میں نہیں آسکتا۔کیونکہ قریب قیاس معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک گروہ کثیر کا بیان جن میں بے تعلق آدمی بھی تھے خلاف واقعہ ہو۔اس سخت حزن و غم کی حالت میں نہایت شدت سے الہام ہوا کہ جو آپنی میچ کی طرح دل کے اندر داخل ہو گیا اور وہ یہ تھا ڈگری ہو گئی ہے مسلمان ہے۔یعنی کیا تو باور نہیں کرتا اور باوجود مسلمان ہونے کے شک کو دخل دیتا ہے۔آخر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ فی الحقیقت ڈگری ہی ہوئی تھی اور فریق ثانی نے حکم کے سنے میں دھوکا کھایا تھا۔(بر ہین احمدیہ چهارم مطبوعه ۱۸۸۴ صفحه ۵۵۱ تا ۵۵۳ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴) ے۔”اے ازلی ابدی خدا بیریوں کو پکڑ کے آ۔“ " زندگی کے فیشن سے دور جاپڑے ہیں۔“ یہ دونوں الہام قریب اکٹھے ہیں پوری عبارت یوں ہے :- (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۰۴) اے ازلی ابدی خدا میں یوں کو پکڑ کے آ۔ضاقت الا رُضُ بِمَا رَحُبَتْ رَبِّ إلى مغلوب فالنصيرُ فَسَحِقهُم تَسحيقاً۔زندگی کے فیشن سے دور جاپڑے ہیں۔ان کا ترجمہ یہ درج ہے :- اے ازلی ابدی خدا میری مدد کے لئے آ۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی۔اے میرے خدا میں مغلوب ہوں۔میرا انتقام دشمنوں سے لے۔پس ان کو پیس ڈال کہ وہ زندگی کی وضع سے دور جا پڑے۔“ یہ الہامات اپنے اس مضمون میں صاف ہیں کہ مشکلات میں خدا تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور آپ کے دشمن گرفتار ہوں گے انہیں بیڑیاں پڑیں گی اور وہ پیس دیئے