تحقیقِ عارفانہ — Page 520
۵۲۰ جائیں گے کیونکہ وہ زندگی کی حقیقی وضع کو چھوڑ چکے ہیں۔یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ وہ آپ پر ایمان لاتے۔مگر وہ تکذیب اور شرارت پر کمر بستہ ہیں۔اس لئے ان کا انجام برا ہو گا۔۹۔اس نمبر پر برق صاحب نے ادھوری عبارت درج کی ہے۔پوری عبارت یوں ہے :- خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر بیت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک ایذاء کے وقت 66 ضرور ایک خزانہ نکلتا ہے۔اور اس بارے میں الہام یہ ہے۔یکے پائے من مے بوسید و من میگفتم که حجر اسود منم " (اربعین نمبر ۴ صفحه ۱۶ حاشیه ) خط کشید و الفاظ برق صاحب نے درج نہیں کئے اور آخری حصہ کا ترجمہ درج کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود استثناء عربی صفحہ ۴۱ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :- قال المعبرون أن المراد من الحجر الاسود في علم الرُّويَا المَرءُ العالم الفقيه الحكيم یعنی خوابوں کی تعبیر کرنے والوں نے کہا ہے کہ علم الرؤیا میں حجر اسود سے مراد ایک عالم فقیہ اور حکیم انسان ہوتا ہے۔حدیث میں آنحضرت علیہ حضرت علی کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :- يا على أنت بمنزلة الكعبة - اے علی تو کعبہ کے مرتبہ پر ہے تذکرۃ الاولیاء میں حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں :- ( دیلمی باب الیاء صفحه ۲۱۴) میں مدت تک کعبہ کا طواف کرتا رہا لیکن جب خدا تک پہنچ گیا تو خانہ کعبہ