تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 443 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 443

۴۴۳ ضروری تھا اور وہ بشیر رابع (چوتھا بشیر ) تھا۔مگر وہ بھی خدا کا عظیم الشان نشان تھا۔کیونکہ اس کی پیدائش کی پیشگوئی کرتے ہوئے الہامی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے اس شرط سے مشروط کر دیا تھا کہ وہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کی زندگی ہی میں پیدا ہو گا۔چنانچہ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- اور میرا چو تھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیشگوئی اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی اور پھر انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۳ میں بتاریخ ۱۴ اگست ۱۸۹۶ء یہ پیشگوئی کی گئی اور رساله انجام آنتم هماہ ستمبر ۱۸۹۶ء طوطی ملک میں شائع ہو گیا اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ عبد الحق غزنوی جو امر تسر میں مولوی عبد الجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے نہیں مریگا جب تک یہ چو تھا بیٹا پیدا نہ ہو جائے اور اس کے صفحہ ۵۸ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عبدالحق غزنوی ہماری مخالفت میں حق پر ہے اور جناب الہی میں قبولیت رکھتا ہے تو اس پیشگوئی کو دعا کر کے ٹال دے اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۱۵ میں کی گئی تو خدا تعالٰی نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے اور عبد الحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پر چہارم کی پیشگوئی کو ۴ ارجون ۱۸۹۹ء میں جو مطابق ۱۴ صفر ۱۳۱۷ ہجری تھی بروز چہار شنبہ پورا کر دیا یعنی وہ مولود مسعود چو تھا لڑ کا تاریخ ند کور میں پیدا ہو گیا۔چنانچہ اصل غرض اس رسالہ تریاق القلوب ناقل) کی تالیف سے یہی ہے تاوہ عظیم الشان پیشگوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا اس کی ملک میں اشاعت کی جائے۔کیونکہ یہ انسان کو جرات نہیں ہو سکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ اول تو مشترک طور پر چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرے۔جیسا کہ ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی۔اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرتا جائے اور اس