تحقیقِ عارفانہ — Page 442
۴۴۲ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی میں ”تین کو چار کرنے والا فقرہ ایک زوالوجوه فقرہ تھا کیونکہ جب یہ الہام ہوا تو آپ نے اس فقرہ کے متعلق الہام درج کرتے ہوئے بریکٹ میں لکھا کہ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے لیکن بظاہر اس سے یہ معلوم ہو تا تھا کہ آپ کے ہاں چار لڑکے ہوں گے اس لئے آپ نے چوتھے لڑکے مبارک احمد کو ایک پہلو سے تین کو چار کرنے والا ہونے کی وجہ سے اس ذوالوجوہ فقرہ کا مصداق قرار دیا اور اسی طرح دو شنبہ ہے مبارک دوشنبہ “ کے زوالوجوہ فقرہ کو مبارک احمد کے دو شنبہ کے دن عقیقہ ہونے پر چسپاں کیا گیا۔دو واقعاتی شہادت نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کو ایک دوسرے پہلو سے ان دونو ذو الوجوہ فقرات کا مصداق ثابت کر دیا ہے۔تمین کو چار آپ نے اس طرح کیا کہ صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود کے فرزند اکبر تھے۔آپ کی خلافت میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اس طرح آپ نے مسیح موعود کے تین جسمانی۔روحانی فرزندوں کے بعد جو زندہ موجود تھے مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی فرزندی میں داخل کر کے چار روحانی فرزند بنا دئیے۔اور اس طرح " تین کو چار کرے گا " کا الہام آپ کے حق میں پورا ہو گیا۔پس آپ بغیر ثانی بھی ہیں اور تین کو چار کرنے والے بھی۔وو دوشنبہ ہے مبارک دو شنبہ کا الہام آپ کے حق میں ولایت کی مذہبی کا نفر نس سے واپسی پر قادیان میں دو شنبہ کے دن ورود مسعود سے پورا ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔مبارک احمد کے ذریعے ایک اور پیشگوئی پوری ہوئی مبارک احمد کو مصلح موعود نہ تھا۔کیونکہ مصلح موعود کیلئے بشیر ثانی ہونا