تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 252 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 252

۲۵۲ اقدس نے اگر انگریزوں کی حکومت سے تعاون کی تعلیم دی ہے۔اور ان کی حکومت کے خلاف باغیانہ خیالات رکھنے سے منع فرمایا ہے تو ساتھ ہی آپ نے ان کے مذہبی عقائد کے پر مجھے بھی اڑا دیئے ہیں اور ان کی دی ہوئی مذہبی آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر عیسائیت کی خوب تردید کی ہے۔آپ نے کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دی کہ عیسائیوں کے مذہبی عقائد میں ان کی ہاں میں ہاں ملائی جائے یا ان کے مذہبی احکام کی فرمانبرداری کی جائے۔بلکہ ان کے مذہبی فتنہ کے خلاف آپ نے ایسا زبر دست جہاد کیا ہے۔کہ خود ملکہ وکٹوریہ انگلستان کو بھی ۱۸۹۳ء میں دعوت دی ہے کہ وہ صحیح کی خدائی چھوڑ کر دین اسلام کو قبول کرے۔آپ نے ملکہ انگلستان کو مخاطب کر کے تحریر فرمایا۔"اے ملکہ توبہ کر اور اس ایک خدا کی اطاعت میں آجا جس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ شریک اور اس کی تمجید کر۔کیا تو اس کے سوا اور کوئی معبود پکڑتی ہے جو کچھ پیدا نہیں کر سکے بلکہ خود مخلوق ہیں اے زمین کی ملکہ ! اسلام کو قبول کرتا تو بچ جائے آمسلمان ( ترجمه آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۳۲) ہو جا۔“ پس آپ نے انگریزوں سے تعاون کی ہدایت صرف ان کی پر امن حکومت کے لحاظ سے دی ہے۔جس سے مسلمانوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی اور سکھوں کے مظالم سے نجات ملی تھی اور اس زمانہ میں خود علماء اسلام بھی مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے رہتے تھے کہ۔مسلمان رعایا کو اپنی گورنمنٹ سے (خواہ وہ کسی مذہب یہودی عیسائی وغیرہ پر ہو۔اور اس کے امن و عہد میں آزادی کے ساتھ شعار نہ ہی ادا کرتی ہو ) لڑایا اس سے لڑنے والوں کی جان ومال سے اعانت کرنا جائز نہیں۔وبناء علیہ اہل اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔“