تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 251 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 251

۲۵۱ ما تحت آپ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما گئے۔پس آپ کا یہ فعل اس بات کی دلیل ہے کہ کسی حکومت میں رہتے ہوئے پرامن طریق سے ہی زندگی بسر کرنی چاہیئے اور جب اس حکومت کا ظلم نا قابل برداشت حد تک پہنچ جائے تو اس ملک کو چھوڑ دینا چاہیئے۔بغاوت کا طریق اختیار کرنا سنت انبیاء کے خلاف ہے۔جناب برق صاحب کا دوسری راہ سے حملہ جناب برق صاحب دل سے ضرور سمجھتے ہوں گے کہ میں یہ کہنے میں غلطی پر ہوں کہ جناب مرزا صاحب نے انگریز فرمانرواؤں کو دجال اکبر قرار دیا ہے کیونکہ وہ اس بارہ میں حضرت اقدس کی کوئی واضح تحریر پیش نہیں کر سکے۔بلکہ انہوں نے انگریزوں کو دجال ثابت کرنے کے لئے ایک دوسری راہ اختیار کی ہے یعنی یہ بتایا ہے کہ انگریزی حکومت کے کارکن بھی عیسائیت کے پھیلانے میں بھی پادریوں کے ہموا تھے۔بلکہ شاہ انگلستان کو بھی تاج پوشی کے وقت اقرار کرنا پڑتا تھا۔کہ میں محافظ دین مسیح ہوں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ انگریزی حکومت بوجہ مسیحی مذہب رکھنے کے پادریوں کی تبلیغ واشاعت میں ان سے ہر طرح کا تعاون کرتی تھی۔لیکن اس کے باوجود ہم ان انگریزی حکام کو دجال قرار نہیں دے سکتے۔بلکہ وہ تو خود پادریوں کے دجل کا شکار تھے۔اصل بات یہی ہے کہ دجالی فتنہ ایک مذہبی فتنہ ہے اور یہ عیسائی پادریوں کا پیدا کردہ ہے جنہوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کر کے مسیح" کو خدا قرار دے رکھا تھا۔عام عیسائی اور حکومت کے کارندے تو ان کے دجل کا شکار تھے۔دجال کی مذ ہبی معاونت کی وجہ سے ان پر صرف معاون دجال ہونے کا تو اطلاق ہو سکتا ہے۔نہ دجال اکبر کا کیونکہ یہ لوگ تو خود پادریوں کے دجل کا شکار تھے اور حسن ظنی کی بنا پر پادریوں کے مفتریانہ عقائد کو درست سمجھ بیٹھے تھے۔اس لئے حضرت