تحقیقِ عارفانہ — Page 253
۲۵۳ یہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا فتوی تھا جو انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد 4 صفحہ ۲۸۷ میں شائع کیا ہے۔پس حضرت اقدس نے کیا جرم کیا۔اگر آپ نے انہی شرعی فتاوی کی تائید کرتے ہوئے قوم کو انگریزی حکومت سے تعاون اور وفاداری کی تعلیم دی اور گور نمنٹ کے دل سے مسلمانوں کے خلاف شبہات دور کرنے کی کوشش فرمائی۔حضرت عیسی جن کے حضرت بانی سلسلہ احمد یہ مشیل ہونے کے مدعی تھے۔انہوں نے بھی اپنے زمانہ کی مشرک رو من حکومت کی اطاعت کی ہی تعلیم دی ہے۔اور حضرت یوسف نے تو فرعون مصر کے ماتحت ایک معزز عہدہ پر ملازمت بھی کی ہے۔اور آپ بادشاہ وقت کے قانون کی پابندی ضروری سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے بھی ان کے اس فعل کی ان الفاظ میں تائید کی ہے۔كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَا خُذَ أَحَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (سورة يوسف : ۷۷) کہ وہ اپنے بھائی کو بادشاہی قانون کے ماتحت روک نہیں سکتے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے بھائی کے مصر میں رک جانے کے لئے خود ایک تدبیر کر دی۔اور جب حضرت موسیٰ اور ہارون کو خدا تعالیٰ نے فرعون مصر کے پاس تبلیغ کے لئے بھیجا۔اور یہ ہدایت فرمائی قُولا لَهُ قَولاً ليناً تو انہوں نے گو فرعون کے ظلم کے خلاف نرم الفاظ میں آواز اٹھائی۔مگر قوم کو بغاوت کی تعلیم ہر گز نہ دی بلکہ فرعون کا ملک چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔چونکہ انگریزوں نے پرسنل لاء کے ماتحت مسلمانوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔اور اس شرط سے مسلمان انگریزوں کا تسلط قبول کر چکے تھے۔اس لئے اب انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کو بلا وجہ ابھار کر شمر عا ہجرت کی تعلیم بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ماسوا اس کے کوئی ایسی سلطنت بھی نظر نہ آتی تھی۔جہاں