تحقیقِ عارفانہ — Page 229
۲۲۹ انگریزوں کے زمانہ میں ان کے خلاف اعلان جہاد خلاف مصلحت تھا۔“ ( حرف محرمانه صفحه ۱۹۹) حضرت اقدس علی الاطلاق جہاد بالسیف کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ اس ملک میں جہاد بالسیف کی وجوہ اپنے زمانہ میں نہ پائے جانے کی وجہ سے اُسے ملتوی سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں :- إِنَّ وُجُوهَ الْجِهَادِ مَعْدُومَةٌ فِى هَذَا الزَّمَنِ وَ فِي هَذِهِ البلادِ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۴۳ طبع اوّل) یعنی اس زمانہ اور ملک میں جہاد کی شرائط موجود نہیں۔جس نظم میں آپ نے فرمایا :- اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال" اس نظم میں فرماتے ہیں :- فرما چکے ہیں سید کو نین مصطفیٰ عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التواء“ پس جہاد بالسیف کو آپ نے علی الاطلاق حرام نہیں کیا۔بلکہ جہاد بالسیف کی شر اٹکا نہ پایا جانے کی وجہ سے صرف ملتوی قرار دیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے۔اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے که اعلام کمپر اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں دمانِ اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں یہی جہاد ہے۔جب تک کہ خدا تعالی کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دے۔(مکتوب حضرت مسیح موعود نام ناصر نواب صاحب مندرج رساله درود شریف صفحہ ۱۱۳ نیا ایڈیشن مؤلفہ مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل)