تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 228 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 228

۲۲۸ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امت محمدیہ کے مسیح موعود کو خود نبی اللہ قرار دیا ہے۔تیرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح وہ دونو عمر بھر جہاد میں مصروف رہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بھی ہمہ تن جہاد میں مصروف رہے ہیں۔صرف جہاد کی نوعیت کا فرق ہے۔جہاد بالسیف کو آنحضرت میں نے چھوٹا جہاد قرار دیا ہے۔اور قرآن کے ذریعہ جہاد کو قرآن کریم نے جہاد کبیر قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود کا کام تبلیغ اسلام جہاد کبیر ہے۔مسیح موعود کے متعلق خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا بضع الحزب کہ وہ تلوار کی لڑائی کو روک دے گا۔مقصود آنحضرت ملنے کا یہ تھا کہ چونکہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد بالسیف کی شرائط موجود نہ ہوں گی اس لئے جہاد بالسیف مسیح موعود کے ذریعہ ملتوی کیا جائیگا۔چوتھے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود نے تبلیغ اسلام کا جو بیڑا اٹھایا ہے اسکی غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت لوگوں کے دلوں میں قائم ہو۔اور ساری دنیا مسلمان ہو جائے۔اور اس طرح خود خود ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت وجود میں آجائے۔انگریزی حکومت کے استحکام کے لئے اس لئے کوشش کی گئی کہ انگریزی حکومت کے ذریعہ ہی سے مسلمانوں کو سکھوں کے ظلم اور تعدی سے نجات ملی تھی۔اور اس وقت کے مذہبی راہنماؤں اور سیاسی لیڈروں کا فیصلہ یہی تھا کہ انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھانا جائز نہیں۔اور صحیح طاری کی حدیث کے الفاظ يضع الحزب میں خدا تعالیٰ نے خود مسیح موعود کو تلوار اٹھانے سے روک دیا تھا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت عیسی کے مثیل تھے۔جو رومن حکومت کے ماتحت زندگی بسر کرتے رہے۔برق صاحب کو خود اعتراف ہے کہ۔