تحقیقِ عارفانہ — Page 8
الشَّرَفِ كَمَا يُقَالُ لِلرَجُل الخير مَلَكُ لِلشَّرِيرِ شَيْطَانٌ تَشَبيهَا بِهِمَا وَ لَا يُرَادُ الاعيان" خريدة العجائب وفريدة الرغائب صفحه ۲۱۴ مطبوعہ مصر) یعنی ایک گروہ مسلمانوں کا نزول عیسیٰ سے ایک ایسے آدمی کے ظاہر ہونیکا قائل ہے جو فضل و شرف میں عیسی کے مشابہ ہو جیسا کہ نیک آدمی کو فرشتہ سے تشبیہ دے کر فرشتہ کہہ دیتے ہیں اور بُرے آدمی کو شیطان سے تشبیہ دے کر شیطان کہہ دیتے ہیں اور اس جگہ اصل فرشتہ با شیطان مراد نہیں ہوتا۔ہمارے نزدیک یہی مذہب سچا ہے اور نزولِ مسیح سے متعلق احادیث نبویہ کی صحیح تعبیر ہے۔ہمارے اس بیان سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ ثابت کرنا چاہتا ہو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مسیح موعود کا عومی درست نہیں تو اُسے حضرت عیسی کی قرآن مجید سے حیات ثابت کرنی چاہئیے اور جماعت احمدیہ کو دلائل سے حیاتِ مسیح کا عقید ہ منوانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔افسوس ہے کہ جناب برق صاحب کی کتاب ” حرف محرمانہ “ کو ہم اس بحث سے بالکل خالی پاتے ہیں پس ان کی یہ کتاب احمد یوں کو اپیل نہیں کر سکتی۔اگر وہ حضرت عیسی کو زندہ رکھتے ہیں تو انہیں حیات مسیح کا ثبوت دینا چاہئے تھا۔جس سے وہ بغیر کسی لمبی بحث کے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس دعوی کو رو کر سکتے تھے کہ آپ صحیح موعود ہیں۔مگر جناب برق صاحب کو تو خود حیات مسیح پر یقین نہیں اور نہ وہ ان کے اصالتنا دوبارہ نازل ہونے پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ان دونوں امور کے متعلق ان کی کتاب میں کوئی بحث موجود نہیں۔وہ اس بارہ میں اپنے عقیدہ کو ظاہر نہیں کرتے۔تا حیات مسیح کے قائلین میں احمدیت کے خلاف ان کی کتاب مقبول ہو سکے۔ہم نے مؤرخہ ۲۲ ستمبر ۱۹۶۴ کو ان کی خدمت میں ایک رجسٹر ڈ خط لکھا